جمعرات 29 جنوری 2026 - 12:22
ایران کے حالیہ واقعات میں کیا ہوا؟

حوزہ/ایران کی جدید تاریخ میں اگر کوئی تسلسل کے ساتھ نظر آتا ہے تو وہ دہشت گردی کے واقعات ہیں—ایسے واقعات جن میں عام شہری، پڑھے لکھے طبقے، علما، سائنس دان، دانشور اور ریاستی ذمہ داران کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ سب قتلِ عام نہیں، بلکہ ٹارگٹڈ دہشت گردی تھی، جس کا مقصد ایران اور اس کے معاشرے کو خوف، عدمِ استحکام اور فکری مفلوجی کی طرف دھکیلنا تھا۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

کیا ایران میں نسل کشی کا کوئی واقعہ پیش آیا؟

داعشی دہشت گردوں کے مقابلے میں ایرانی پولیس کا کردار اور کارکردگی کیا رہی؟

اس بحث کو اگر سنجیدگی اور دیانت کے ساتھ دیکھا جائے تو سب سے پہلی حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ ایران میں انقلاب اسلامی کے بعد سے نسل کشی کے عنوان سے کوئی واقعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا۔ یہ اصطلاح محض سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی گئی، تاکہ حقائق کو دھندلا کر ایک خوددار ریاست کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔ ایران کی معاصر تاریخ میں اگر کوئی تسلسل کے ساتھ نظر آتا ہے تو وہ دہشت گردی کے واقعات ہیں—ایسے واقعات جن میں عام شہری، پڑھے لکھے طبقے، علما، سائنس دان، دانشور اور ریاستی ذمہ داران کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ سب قتلِ عام نہیں، بلکہ ٹارگٹڈ دہشت گردی تھی، جس کا مقصد ایران اور اس کے معاشرے کو خوف، عدمِ استحکام اور فکری مفلوجی کی طرف دھکیلنا تھا۔

یہ دہشت گردی کسی اندرونی مزاحمت یا عوامی ردِعمل کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پسِ پشت امریکہ، اسرائیل اور دیگر استعماری طاقتوں کے منظم نیٹ ورکس کارفرما رہے۔ عوامی اجتماعات، مساجد، مزارات اور شہری مراکز کو نشانہ بنانا اس بات کی صاف دلیل ہے کہ مقصد نہ اصلاح تھا اور نہ اختلافِ رائے، بلکہ محض خوف پھیلانا اور خونریزی کے ذریعے افراتفری پیدا کرنا تھا۔ ان حملوں میں بچوں، عورتوں اور بے گناہ شہریوں کی جانیں لی گئیں، اور ان جرائم کے شواہد آج بھی تصاویر اور ویڈیوز کی صورت میں دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ یہ طرزِ عمل کسی ریاستی نظام کی پہچان نہیں، بلکہ داعش اور القاعدہ جیسے اُن گروہوں کا طریقہ رہا ہے جو بالواسطہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں پروان چڑھے۔

ان حالات میں ایران کی پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے جو کردار ادا کیا، وہ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تھا۔ پیشگی انٹیلیجنس کارروائیاں، بروقت گرفتاریاں اور متعدد بڑے حملوں کی ناکامی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ کارروائیاں اندھی طاقت نہیں بلکہ ذمہ دارانہ تحفظ کے اصول کے تحت کی گئیں۔ اگر ریاستی نیت ظلم یا کچلنے کی ہوتی تو دہشت گردی کے مراکز کو توڑنے، عوامی مقامات کی حفاظت کرنے اور اپنی ہی شہری آبادی کو بچانے کی سنجیدہ کوششیں نظر نہ آتیں—مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں بعض عالمی طاقتیں حقائق کو الٹ کر پیش کرنے کی روش اپناتی ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کے ثابت شدہ جرائم کو نظر انداز کر کے انہی خونریز کارروائیوں کی ذمہ داری ایرانی سیکیورٹی دستوں پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی مزاحمت کو مشکوک بنایا جا سکے۔ یہ طرزِ فکر قاتل کو مظلوم اور محافظ کو قصوروار ثابت کرنے کی ایک پرانی چال ہے، جس کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کا کردار بارہا زیرِ بحث آ چکا ہے۔

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے افواہوں یا غیر مستند دعوؤں پر نہیں، بلکہ شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں۔ تصاویر، ویڈیوز اور واقعات کا تسلسل واضح کرتا ہے کہ عام شہریوں کا قتل، علما اور سائنس دانوں کی ٹارگٹڈ شہادتیں اور عوامی مقامات پر حملے دہشت گرد تنظیموں کا طریقہ رہے ہیں، جبکہ ایران نے اپنے شہریوں اور خطے کو اس مسلسل فتنہ و فساد سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری نبھائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ یہی ثابت کرے گی کہ دہشت گردی کے مقابل کھڑا ہونا کسی قوم پر ظلم نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی ناگزیر ذمہ داری ہے—اور ایران کا کردار اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha